وزیراعظم کو اس وقت مینڈلسن-ایپسٹین تعلق کے حوالے سے کافی دباؤ کا سامنا ہے۔ کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈنوچ نے بارہا وضاحت طلب کی ہے کہ کیا وزیراعظم نے پیٹر مینڈلسن کی جیفری ایپسٹین کے ساتھ مبینہ دوستی پر ان کے برطانیہ کے سفیر کے طور پر تقرری سے قبل تبادلہ خیال کیا تھا۔ پارلیمنٹ میں جاری یہ تبادلہ خیال اعلیٰ حکومتی عہدوں کے لیے مناسب جانچ پڑتال کے عمل کو نمایاں کرتا ہے۔
سفیر کی تقرری پر شدید جانچ پڑتال
کنزرویٹو پارٹی کی ایک نمایاں شخصیت کیمی بیڈنوچ جوابات کے مطالبے کی قیادت کر رہی ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتی ہیں کہ کیا لارڈ مینڈلسن کے ساتھ ان کے بدنام زمانہ فنانسر جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے بارے میں کوئی بات چیت ہوئی تھی، اس سے پہلے کہ وہ ایک اہم سفارتی عہدہ سنبھالتے۔ یہ پوچھ گچھ عوامی شخصیات کے ماضی کے تعلقات کے گرد موجود حساسیت کو اجاگر کرتی ہے۔
وزیراعظم نے ان مخصوص سوالات کے براہ راست جوابات دینے سے مسلسل گریز کیا ہے۔ اس مبینہ گریز سے اب اپوزیشن جماعتوں اور کچھ حکومتی بیک بینچرز میں اعلیٰ عہدوں کے لیے تقرری کے طریقہ کار کی شفافیت اور مکمل جانچ پڑتال کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔
شفافیت اور احتساب کے مطالبات
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی تقرریوں پر عوامی اعتماد مکمل اور کھلے عام انکشاف پر منحصر ہے۔ ایپسٹین کے جنسی مجرم کے طور پر سزاؤں کی نوعیت کے پیش نظر، مینڈلسن کا اس سے مبینہ تعلق بیرون ملک برطانیہ کی نمائندگی کرنے والے کسی بھی فرد کے لیے سخت جانچ پڑتال کا متقاضی ہے۔ عوام اپنے نمائندوں سے دیانت کے اعلیٰ ترین معیار کی توقع رکھتی ہے۔
پارلیمنٹ میں جاری تبادلے حکومت کے اعلیٰ ترین سطح پر اخلاقی معیارات اور احتساب کے بارے میں ایک وسیع تر بحث کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس معاملے پر وزیراعظم کی جانب سے ایک واضح اور حتمی بیان کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں، جو زیادہ وضاحت کے وسیع پیمانے پر مطالبات کی عکاسی کرتے ہیں۔
حوالہ: بی بی سی نیوز





جوابات (0)