عرب وزرائے خارجہ نے متفقہ طور پر امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے حالیہ یروشلم کے بارے میں امریکی فیصلے کو منسوخ کرے، جس میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا گیا تھا۔ یہ متفقہ موقف اتوار کو ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس سے سامنے آیا، جو خطے کی جانب سے شدید عدم اطمینان کا اشارہ ہے۔
وزرائے خارجہ کے بیان میں واشنگٹن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ اعلان کو واپس لے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسا اقدام بین الاقوامی قانون کو پامال کرتا ہے اور خطے میں امن کے امکانات کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
دارالحکومت کی حیثیت پر علاقائی احتجاج
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یروشلم کی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کے فیصلے نے عرب دنیا میں بڑے پیمانے پر مذمت کو جنم دیا ہے۔ ممالک کا موقف ہے کہ شہر کی حتمی حیثیت کا تعین اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔
یہ سفارتی دباؤ یروشلم کے گرد گہری حساسیت کو اجاگر کرتا ہے، جو مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک ایک مقدس شہر ہے۔ اس کے مشرقی حصے کو فلسطینی اپنی آئندہ ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔
سفارتی نتائج متوقع
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عرب ممالک کا یہ اجتماعی مطالبہ امریکہ کے لیے اس مسئلے پر مزید سفارتی تنہائی کا باعث بن سکتا ہے۔ وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے سے پالیسی کی تبدیلی کے خلاف ایک مضبوط متحدہ محاذ کا اشارہ ملتا ہے۔
بین الاقوامی برادری مشرقی یروشلم کو زیادہ تر مقبوضہ علاقہ سمجھتی ہے، اور بیشتر ممالک نے اپنے سفارت خانے تل ابیب میں قائم کر رکھے ہیں۔ یہ تازہ ترین پیش رفت مشرق وسطیٰ کے پہلے سے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی منظر نامے کو مزید شدت بخشتی ہے۔
حوالہ: chinadaily.com.cn




جوابات (0)