اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے ایران میں جاری فوجی کشیدگی کے دوران بچوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونیسیف کے مطابق، تقریباً 180 بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد دیگر حالیہ حملوں اور جھڑپوں میں زخمی ہوئے ہیں۔
یونیسیف کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے علاقائی دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں، تنظیم نے کہا کہ بچے جنگ اور تشدد کا سب سے بھاری بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ 28 فروری کو، جنوبی ایران کے میناب میں واقع شجرہ طیبہ گرلز ایلیمنٹری سکول پر حملے کے نتیجے میں 168 طالبات کی ہلاکتیں ہوئیں، جن میں سے زیادہ تر 7 سے 12 سال کی عمر کے درمیان تھیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے مختلف علاقوں میں سکولوں پر حملوں میں مزید 12 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ یونیسیف نے زور دیا کہ یہ المناک واقعات ایک دردناک یاد دہانی ہیں کہ جنگ اور تشدد کے نتائج خاندانوں اور معاشروں کو نسلوں تک متاثر کر سکتے ہیں۔
یونیسیف نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں اور شہریوں، بالخصوص بچوں اور تعلیمی اداروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ تنظیم نے زور دیا کہ سکول بچوں کے لیے محفوظ جگہیں رہیں اور انہیں کبھی بھی حملوں میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
یونیسیف کے مطابق، خطے میں جاری فوجی کارروائیاں بچوں کی زندگیوں، تعلیم اور صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں، اور عالمی برادری کو مزید انسانی نقصان کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔







Responses (0)